اومي کرون وائرس کا تعارف اور ہر طب سے اس کا ٹریٹمنٹ

اومی کرون وائرس کا تعارف اورہر طب سے اس کا ٹریٹمنٹ

 

سوال :میرانام نصیر احمد ہے۔ میں کراچی سے ہوں۔ حافظ صاحب !میں اور میری فیملی آپ کے شکر گزار ہیں کہ آپ کی ویڈیو دیکھ کر ہم نے اپنا علاج کیا تھا۔ اس سے ہمیں بڑافائدہ ہوا ہے۔ آپ سے گزارش ہے کہ طب نبوی سے ہمیں کوئی ایس نسخہ بتادیں جس سے ہم وائرسوں سے بچ سکیں۔ کرونا سے جان نہیں چھٹی تھی کہ اب اومیکرون وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے۔ میڈیا میں یہ خبریں گردش کررہی ہے کہ کرونا کی دو ویکسین لگائے جانے کے باوجود لوگ اس نئے وائرس کا شکار ہورہے ہیں ۔ اس لیے کئی ممالک نے جنوبی افریقہ کے سفر پر پابندی عائد کی ہوئی ہے ۔


بسم اللہ الرحمن الرحیم

(حافظ محمد صالح احمد :
معالج طب الہی وطب نبوی)

ج: اومی کرون وائرس جنوبی افریقہ کا ایجاد کردہ نہیں ہے اور نہ ہی اس ملک کے بائیکاٹ سے یہ وائرس رکے گا۔

جنوبی افریقہ کا قصور صرف اتنا ہے کہ میڈیا نے یہ خبر چلادی کہ کرونا وائرس کا نیا اپڈیٹ ورژن ’’B.1.1.529‘‘ جنوبی افریقہ میں 24-11-2021کومنظرعام پرآیا۔

اب لیبارٹری میڈیکل فیلڈ سے تعلق نہ رکھنے والے یہ نہیں جانتے ہیں کہ کبھی بھی کوئی وائرس ختم نہیں ہوتا ہے اور ہر وائرس اپنی بقا کی جنگ لڑتے ہوئے ہر سال پینترے بدلتے رہتے ہیں تاکہ زندہ رہسکے۔ کرونا وائرس بھی Reinfection ہوا ہے اور اس کی تجدید سے اومی کرون وجود میں آیا ہے۔

میڈیکل فیلڈ میں کھلبلی اس وجہ سے مچی ہوئی ہے کہ کرونا وائرس نے بدلتے ہوئے اب جو اومی کرون کی نئی دفاعی صورت اختیار کی ہے وہ بالکل نئی ہے۔ کرونا کی نسبت اومی کرون میں 50 میوٹیشن تبدیلیاں ہوئی ہیں۔ صرف 32 میوٹیشن تبدیلیاں اسپائیک پروٹین (Spike proteins) میں ہوئی ہیں جس کو بیس بناکر ویکسین تیار کی جاتی ہے۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ اومیکرون سے بچنے کے لیے تیسری ویکسین لگانی پڑے گی۔ لیکن جب تک تیسرے درجے کے ممالک میں ویکسین آئے گی اس وقت تک اومیکرون وائرس نئی شکل اختیار کر چکا ہوگا۔
پھر تیسری ویکسین لگانے کے بعد چوتھی ویکسین آئے گی اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔

اس وقت دنیا کے کئی حصوں میں Omicron کی نئی قسم BA.2 پھیل چکی ہے جواپنی لپیٹ میں عمر رسیدہ افراد کولے رہا ہے۔

گزشتہ ہفتے اسرائیل نے 60 سال سے زائد عمر کے لوگوں اور ہسپتالوں میں موجودکمزور مدافعتی قوت (immunosuppressed) والے مریضوں کو چوتھی ویکسین بھی لگادی ہے۔ نیز دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ اومیکرون کی نئی قسم BA.2 میں پہلی قسم BA.1 کی نسبت 27 میوٹیشن تبدیلیاں ہوئی ہیں اور تیسری ویکسین بھی ناکافی ہے۔(بحوالہ 3 فروری کی برطانوی اخبار Financial Times)

ایسے حالات میں ہر طب والے معالج، ڈاکٹر ، طبیب اور حکیم کا فرض بنتا ہے کہ وہ عوام کی راہنمائی کریں اور ان کو صحت مند رہنے کے لیے ایسی ہدایات جاری کریں جو ہر قسم کے وائرس سے متاثر ہونے سے بچنے میں مدد دیں۔

خوف پھیلانے کی بجائے سب کو یہ بتایا جائے کہ آج تک دنیا میں کوئی وائرس ختم نہیں ہوا ہے بلکہ انسانی جسم کو اس قابل بنایا جاتا ہے کہ وہ وائرس انسان کو کچھ نقصان نہ پہنچاسکے۔
اومیکرون وائرس سے ڈرنا نہیں ہے بلکہ اپنی صحت کا خیال رکھنا ہے۔

انسانی جسم میں اللہ تعالیٰ نے نظام صحت کا جو پورا ہسپتال قائم کر رکھا ہے اسے ہر وقت ایکٹیو رکھنا چاہیے اور اس کا کوئی بھی سسٹم یا ہارمون یا غدود میں کوئی افراط وتفریط سے خرابی آئے تو اسے فورا درست کرکے اپنا خون ، اعصاب اور سانس کو صحتمند رکھنا چاہیے۔

اس وجہ سے کہ اومیکرون سمیت ہر وائرس ہر انسان سے ٹکرائے گا۔دنیا مانتی ہے کہ اگرانسان کا دفاعی سسٹم درست ہے توپھروہ خود ہی کرونا سمیت ان تمام نئے وائرسوں کا مقابلہ کرکے اسے ختم کردیتا ہے۔ اس لیے پریشان ہونے کی بجائے اپنی صحت کی نگہداشت کریں۔اگر بیمار ہو جائیں تو ظاہری علامات کی بجائے جو بھی بیماری لاحق ہو اس کا جڑ سے علاج کریں ۔

کرونا وائرس جب آیا تھا تب ہم نے طب نبوی کی روشنی میں کرونا وائرس کا علاج سب سے بڑے طبیب اورڈاکٹرہمارے پیارے مرشدونبی جناب محمد رسول اللہ ﷺکی زبان مبارک سے7 شفائیں رکھنے والی دنیا کی انمول ترین جڑی بوٹی ’’قسط ہندی‘‘ سے بتایا تھا تو اس وقت سے اب تک ہم ہم بخارکے لیے انگریزی ادویات لینے سے منع کررہے تھے۔اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ ادویات جسم کا دفاعی نظام کو نچوڑ کر رکھ دیتی ہے اور اس سے بخار تو کم ہوتا ہے لیکن جسم کے دفاعی نظام کا ستیاناس ہوجاتا ہے اور معدہ بھی کمزور پڑجاتا ہے۔

اس لیے ابھی بھی ہماری یہی گزارش ہے کہ بخار کی صورت میں کبھی جسم کا درجۂ حرارت کم کرنے والی میڈیسن نہ لیں ۔ اس وجہ سے کہ جب جسم میں وائرس داخل ہوتا ہے توIMMUNE SYSTEM وائرس سے لڑنے کے لیے درجۂ حرارت بڑھادیتا ہے۔

اسی ہفتے برطانیہ کی یونیورسٹی University of Edinburgh نے ہماری بات کی تصدیق کردی ہے اور یہ ریسرچ رپورٹ جاری کی ہے کہ اومیکرون وائرس سے بچنے کے لیے بخار اور درد کو کم کرنے اور سکون حاصل کرنے کے لیے پیراسٹامول ( Paracetamol) اورایسٹامینوفین(Acetaminophen)کا استعمال نہ کیا جائے کیونکہ اس سے دل کا دورہ یا دماغی فالج آنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

اومیکرون وائرس کی ظاہری علامات جو عالمی ادارہ صحت کی طرف سے بیان کی گئی ہیں وہ یہ ہیں :

1.شدید بخار
2۔ سر بھاری ہونا
3. شدید کمر درد
4. سانس کی پرابلم
5۔حلق میں سوزش اور کھانسی
6۔ناک بہنا
7۔ ٹانگوں میں درد رہنا۔

اومیکرون وائرس کی علامات کی مزید تفصیلات انگریزی اور عربی میں موجودان نقشوں سے سمجھ لیں جو عالمی ادارہ صحت کے ذرائع سے مختلف میڈیکل نیوزویب سائٹوں نے انگریزی اور عربی میں جاری کیے ہیں۔

اب آتے ہیں اومیکرون سے بچنے کے لیے حفظ ما تقدم کے طور پر ہمیں کیا کرنا چاہیے؟

سب سے پہلے طب الہی ہے ۔ یہ وہ طب ہے جس سے کسی کا کوئی مفر نہیں ہے۔
آپ کا کھانا،پینا، سونااور ورزش کرنا؛یہ سب کچھ اگر اللہ تعالیٰ کے نظام فطرت کے عین اصولوں کے مطابق ہوتوپھرآپ کا جسم کسی بھی قسم کے وائرس اوربیماری کا سامنا کرسکتا ہے۔ اس وجہ سے کہ طب الہی اپنانے سے انسانی جسم کی مشینری کو تقویت ملتی ہے اور اس کی صحیح نشونما ہونے کا سلسلہ جاری رہتا ہے چاہے عمر85 سال سے تجاوز بھی کرجائے۔

لیکن طب الہی کا علم بہت کم لوگوں کو ہیں اور اس پر عمل درآمد صرف قرآن وسنت پر گہری نظر رکھنے والے کرتے ہیں جبکہ  حلال وحرام کی تمییز کے بغیر نیچرل طریقے سے خوراک اگانے سے ادویات تیار کرانے کا عمل صرف چند ترقی پذیر ممالک میں ہورہا ہے۔

طب الہی دنیا کی سب سے بہترین طب ہے اور اس طب کی بدولت موت کے سواہر بیماری سے شفاملتی ہے اور جسم کا ہرحصہ نیا ہوتا ہے سوائے دماغ کے۔

طب الہی سکھاتی ہے کہ آپ نے سورج سے کیسے اپنا علاج کرنا ہے۔ پانی کون سا اور کیسے پینا ہے۔ ماحول میں پھیلی ہوئی آلودگی اور فارمی  مصنوعی غذاؤں کے زیریلی مواد کیسے ختم کرکے ان کا استعمال کرنا ہے۔  صحت کا خیال کیسے رکھنا ہے اور بیماری کا ابتدا میں ہی علاج کرکے کیسے ختم کرنا ہے۔  پاکیزہ خوراک کو کہاں سے حاصل کرنا ہے اور کس طرح پکاکر کھانا ہے۔ کون سے مشروبات کو پینا  ہے۔ سونا کب ہے اور ورزش کب کرنی ہے۔ الغرض اللہ تعالی نے جو نظام صحت بنائی ہے، اس کے مطابق پوری زندگی بسر کرنا طب الہی کا نام ہے۔

طب الہی دنیا کی وہ منفرد طب ہے جس سے آپ ہر بیماری کا گھر بیٹھے علاج کرسکتے ہیں اور وہ امراض جن کا اب تک ایلوپیتھک میں علاج دریافت نہیں ہوا ہے یا جن کو ڈاکٹروں نے آخری اسٹیج پر قرار دیکر چند مہینوں کا مہمان قرار دیدیا ہو، ان سب کا علاج طب الہی سے ممکن ہے۔ 

آج چین اور جاپان جیسے ممالک جو اسلام کو نہیں مانتے لیکن اپنی بیماریوں کا علاج کرانے کے لیے طب الہی کے نیچرل طریقے کو اختیار کرتے ہیں۔ 

طب الہی کا کام جسم میں موجود تمام مشینوں کو درست کرکے فعال بنانا ہوتا ہے اور جب مشینیں چل پڑتی ہیں اور تمام ہارمونز نارمل ہونے کے ساتھ غدود واعصاب کے سسٹمز صحیح کام کرنے لگ جاتے ہیں تو وہ خود ہی پھر جسم میں موجود ان امراض کا خاتمہ کردیتے ہیں جن کی ابھی تک میڈیکل فیلڈ میں تشخیص نہیں ہوسکی ہے۔ 

طب الہی کے بعد باری آتی ہے طب نبوی کی تو ہمارے پیارے نبی محمد ﷺ نے جن اشیاء کوشفا قرار دیا ہے، وہ تاقیامت تک آنے والے تمام وائرسوں کا علاج ہیں۔
یہ طب نبوی کا وہ معجزہ ہے جس کا انکارمخالفین بھی نہیں کرسکتے ہیں۔ اگر کسی کو شک ہو تو وہ آزماکر دیکھ لیں۔

اومیکرون وائرس کا علاج بھی طب نبوی کی روشنی میں وہی ہے جو ہم نے کرونا وائرس کا بتایا تھا۔

قسط ہندی، شہد، زیتون اور کلونجی۔

اس کے بعدباری آتی ہے ایلوپیتھک کی تو اس میں ایک علاج ویکسین ہے۔دو ویکسین کے بعداب 50 سال سے زائد عمر والے کوضرورت پڑنے پر Covid Boosterلگوائی جائے گی جیساکہ اس وقت ترکی میں لگائی جارہی ہے۔

دوسرا یہ ہے کہ اپنے جسم کو فٹ رکھنے کے لیے میڈیکل ٹیسٹ کرائے جائیں اورجووٹامنزیا منرلزکم یا زیادہ ہوتوان کونارمل ویلیوپرلایا جائے۔

یادرکھیں ملٹی وٹامنزیا فوڈ سپلیمنٹ بغیر ٹیسٹ کے کبھی مت لیں کیونکہ ان کی زیادتی آپ کو مہلک بیماریاں لگاسکتی ہے جیساکہ اس وقت کیلشیم نے ہردسوے انسان کے خون میں تباہی مچارکھی ہے۔

ہومیوپیتھک طب میں جو ادویات اومیکرون وائرس پرکام کرتی ہیں ،وہ یہ ہیں:
1. Arsenicum Album 30
2. Eupatorium Perfoliatum Dilution 200 CH
3. Belladonna Dilution 30 CH
4.Antimonium Tart 200
5.Spongia Tosta 30
6.Ipecac Ø
7.Natrum Sulphuricum

اب آتے ہیں دیسی حکمت کی طرف تواس میں ہرکمپنیوں کی اپنی ادویات ہیں اور حکماء حضرات کو اپنی نبض دکھاکر اپنے جسم کے مزاج کے مطابق دل، جگر اور معدے کو تقویت پہنچانے والی جڑی بوٹیوں کا استعمال کریں جو یقینی طور پر اومیکرون وائرس میں بھی کام کرتی ہیں۔

’’وحدت مسالک ‘‘کے اس پلیٹ فارم سے ہم نے اومیکرون وائرس کا علاج طب الہی، طب نبوی، طب ایلوپیتھک، طب ہومیوپیتھک اور طب دیسی حکمت سے بتادیاہے۔

لیکن طب نبوی ﷺ کی جو میڈیسن ہم نے اوپر آپ کو بتائی ہے، اس کی تیار شدہ معجون آپ ہم سے منگواسکتے ہیں۔’’وحدت مسالک‘‘ کے اس نمبر پر واٹس ایپ کرکے۔+923334103401

طب نبوی کی یہ معجون کوئی بھی استعمال کرسکتاہے چاہے وہ ایلوپیتھک یا ہومیوپیتھک یادیسی حکمت سے اپنے کسی بھی مرض کا علاج کرارہاہو۔
روزانہ صبح وشام اس کا ایک چمچ کھائیں تو اس سے آپ کے جسم میں مدافعتی نظام سمیت تمام قسم کے وائرس سے لڑنے کی طاقت بڑھتی ہے اور جسم میں کمزوری قریب نہیں آتی ہے جبکہ قدرتی طور پر آکسیجن کا اضافہ ہوتا ہے۔

طب نبوی کی اس معجون کو روزانہ کی بنیاد پر ہمیشہ لیتے رہے۔ اس وجہ سے کہ اومیکرون وائرس کے علاوہ جوآلودگی اورزہریلے جراثیم ہمارے جسموں میں کھانے، پینے اور سانس لینے کے ساتھ جارہے ہیں ، یہ ان کا بھی خاتمہ کرتی ہے۔

آخرمیں ہم سب کو وہی نصیحت کرتے ہیں جو ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) اورامریکی ادارہ برائے خوراک و ادویات FDA نے کی ہے کہ Protection (احتیاطی تدابیر)،FOOD (اچھی خوراک)، Cleanliness(صفائی)اور Sleep(نیند)کا خیال رکھیں۔

(حافظ محمد صالح احمد، معالج طب نبوی-وحدت مسالک)

Leave A Comment

’’وحدت مسالک ‘‘ ایک آزاد غیر سیاسی ، ذاتی مفادات اور ہرقسم کے تعصب سے بالاترادارہ ہے جس کا مقصد ایسی ریسرچ پیش کرنا جو پوری امت میں آپس کے اختلافات کے باوجود اتفاق کے ساتھ زندگی گزارنے کی راہ ہموار کرنا اورتمام مسالک کا باعلم اور باشعور طبقہ سامنے لاکر شریعت پر عمل کے مثالی طریقوں کو عوام الناس میں عام کرنا۔

ISLAMABAD, LAHORE, KARACHI
(Sat - Thursday)
(10am - 05 pm)
اسلام آباد ، لاہور، کراچی
(ہفتہ - بدھ)
(10am - 05 pm)
اسلام آباد ، لاہور، کراچی
(ہفتہ - بدھ)
(10am - 05 pm)
ISLAMABAD, LAHORE, KARACHI
(Sat - Thursday)
(10am - 05 pm)
ISLAMABAD, LAHORE, KARACHI
(Sat - Thursday)
(10am - 05 pm)
اسلام آباد، کراچی، لاہور
(ہفتہ - بدھ)

’’وحدت مسالک ‘‘ ایک آزاد غیر سیاسی ، ذاتی مفادات اور ہرقسم کے تعصب سے بالاترادارہ ہے جس کا مقصد ایسی ریسرچ پیش کرنا جو پوری امت میں آپس کے اختلافات کے باوجود اتفاق کے ساتھ زندگی گزارنے کی راہ ہموار کرنا اورتمام مسالک کا باعلم اور باشعور طبقہ سامنے لاکر شریعت پر عمل کے مثالی طریقوں کو عوام الناس میں عام کرنا۔

اسلام آباد، کراچی، لاہور
(ہفتہ - جمعرات)
(10am - 05 pm)
اسلام آباد، کراچی، لاہور
(ہفتہ - جمعرات)
(10am - 05 pm)

No products in the cart.

X